مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْبِرِّ باب: ( ماں باپ کے ساتھ ) اچھا سلوک کرنے کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فِي غَيْثِ السَّمَاءِ إِذْ مَرُّوا بِغَارٍ فَقَالُوا : لَوْ آوَيْتُمْ إِلَى هَذَا الْغَارِ ، فَآوَوْا إِلَيْهِ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذْ وَقَعَ حَجَرٌ مِنَ الْجَبَلِ مِمَّا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، حَتَّى سَدَّ الْغَارَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّكُمْ لَنْ تَجِدُوا [شَيْئًا] خَيْرًا مِنْ أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ بِخَيْرِ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ [إِنِّي] كُنْتُ رَجُلًا زَرَّاعًا وَكَانَ لِي أُجَرَاءُ ، فَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يَعْمَلُ كَعَمَلِ رَجُلَيْنِ ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ كَمَا أَعْطَيْتُ الْأُجَرَاءَ ، فَقَالَ : أَعْمَلُ عَمَلَ رَجُلَيْنِ وَتُعْطِينِي عَمَلَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ؟ فَانْطَلَقَ وَغَضِبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ عِنْدِي ، فَبَذَرْتُهُ عَلَى حِدَتِهِ فَأُضْعِفَ ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ ، حَتَّى كَثُرَ الطَّعَامُ فَكَانَ أَكْدَاسًا ، فَاحْتَاجَ الرَّجُلُ فَأَتَانِي ، فَسَأَلَنِي أَجْرَهُ فَقُلْتُ : انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْأَكْدَاسِ فَإِنَّهَا أَجْرُكَ . فَقَالَ : تَظْلِمُنِي وَتَسْخَرُ بِي ؟ قُلْتُ : مَا أَسْخَرُ بِكَ . فَانْطَلَقَ فَأَخَذَهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءِ وَجْهِكَ ، فَاكْشِفْ عَنَّا . قَالَ : الْحَجَرُ فَضَّ ، فَانْفَرَجَتْ مِنْهُ فُرْجَةٌ عَظِيمَةٌ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین آدمی بارش میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، انہوں نے کہا: اگر تم لوگ اس غار میں پناہ لے لو ، تو مناسب ہو گا ، پھر وہ اس غار کے اندر چلے گئے ، ابھی وہ اس کے درمیان موجود تھے کہ اسی دوران پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا ، یہ وہ پتھر تھا ، جو اللہ کے خوف کی وجہ سے گرا تھا ، یہاں تک کہ اس نے غار کے منہ کو بند کر دیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ اب کوئی بھلائی کی چیز نہیں پاؤ گے ، تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے اس بہترین عمل کے حوالے سے دعا کرنی چاہیے ، جو اُس نے کبھی کیا ہو ۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ ! میں کھیتی باڑی کرنے والا شخص تھا ، میرے مزدور تھے ، ان میں ایک شخص ایسا تھا جو دو آدمیوں کے برابر کام کرتا تھا ، میں نے اس کو اتنا ہی معاوضہ دیا ، جتنا میں نے دوسروں کو دیا تھا ، تو اس نے کہا: میں نے دو آدمیوں جتنا کام کیا ہے اور تم مجھے ایک آدمی کے کام جتنا معاوضہ دے رہے ہو ، وہ غصے میں آ کے چلا گیا اور اس نے اپنا معاوضہ میرے پاس چھوڑ دیا ، میں نے اسے الگ طور پر کھیتی باڑی میں خرچ کیا ، تو وہ کئی گنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے استعمال کیا تو وہ دگنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے خرچ کیا ، تو وہ دگنا ہو گیا ، یہاں تک کہ اناج بہت سا ہو گیا اور اس کے ڈھیر لگ گے ، پھر وہ شخص محتاج ہوا ، تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا معاوضہ مجھ سے مانگا ، تو میں نے کہا: تم ان ڈھیروں کے پاس جاؤ ! وہ تمہارا معاوضہ ہے ، اس نے کہا: ایک تو تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ، پھر میرا مذاق بھی اڑا رہے ہو ، میں نے کہا: میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، وہ شخص گیا اور اس نے ان کو وصول کر لیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا ، تو تم ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ پتھر تھوڑا سا سرک گیا اور اس کی وجہ سے ایک بڑا سوراخ بن گیا ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔