مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْبِرِّ باب: ( ماں باپ کے ساتھ ) اچھا سلوک کرنے کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الرَّقِيمَ قَالَ : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ كَانُوا فِي كَهْفٍ ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَ عَلَيْهِمْ . قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : تَذْكُرُوا أَيُّكُمْ عَمَلَ حَسَنَةً ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِيَ اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَرْطِ أَصْحَابِهِ ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِّمَامِ أَنْ لَا أَنْقُصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : تُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي ؟ فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَمْ أَبْخَسْكَ [شَيْئًا] مِنْ شَرْطِكَ ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ بِمَا شِئْتُ . قَالَ : فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ ، قَالَ : فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَقَرٌ ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ ضَعِيفٌ لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ : إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا ، فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ : إِيَّاكَ أَبْغِي ، هَذَا حَقُّكَ ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعًا ، قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا تَسْخَرْ بِي ، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي . قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَسْخَرُ بِكَ ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ . فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ لَا تَعْلَمُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ [حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ] وَأَبْصَرُوا . قَالَ آخَرُ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَأَبَتْ عَلَيَّ ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِزَوْجِهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ . فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ . فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ [إِلَيَّ] نَفْسَهَا ، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ . فَقُلْتُ لَهَا : خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ ؟ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ مِمَّا تَكَشَّفْتُهَا . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّ ذَلِكَ لِوَجْهِكِ فَافْرِجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ . وَقَالَ الْآخَرُ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ : فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ ، فَحَبَسَنِي ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي ، فَأَخَذْتُ مِحْلَبِي ، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدَيَّ حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ ، فَسَقَيْتُهُمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا " . قَالَ النُّعْمَانُ : لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَبَلُ طَاقَ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غار کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ایک غار میں تھے ، پہاڑ پر سے ایک پتھر غار کے منہ پر آیا اور ان لوگوں کے لئے دروازہ بند ہو گیا ، ان میں سے کسی نے کہا: تم لوگ یاد کرو کہ تم میں سے کس نے کون سا اچھا عمل کیا تھا ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وجہ سے ہم پر رحم کرے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ایک مرتبہ میں نے ایک اچھا کام کیا تھا ، میرے کچھ مزدور تھے جو کام کرتے تھے ، ایک مرتبہ مزدور میرے پاس آئے ، میں نے ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک متعین معاوضہ طے کر دیا ، ایک دن دوپہر کے وقت ایک شخص میرے پاس آیا ، میں نے اسے اس کے ساتھیوں کی شرط پر مزدور رکھا ، اُس نے دن کے بقیہ حصے میں کام کیا ، جس طرح پہلے والے لوگوں نے پورا دن کام کیا تھا ، جب میں نے اس کے کام میں اس کی بھرپور کوشش کو دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ میرے ذمہ یہ لازم ہے کہ میں نے اس کے ساتھیوں کو جو معاوضہ دیا ہے ، اس میں سے کوئی کمی نہ کروں ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: کہ آپ نے اسے بھی اتنا ہی معاوضہ دیا ہے جو مجھے دیا ہے ؟ تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے ساتھ جو طے کیا تھا ، اس میں سے کوئی کمی تو نہیں کی ؟ یہ میرا مال ہے ، میں اس کے بارے میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں ، تو وہ شخص غصے میں آیا اور چلا گیا اور اپنا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کے معاوضے کو گھر کے ایک حصے میں رکھ لیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ وہ وہاں پڑا رہا ، پھر ایک مرتبہ میرے پاس سے گائے گزری ، تو میں نے ان میں سے گائے کا بچھڑا خرید لیا ، پھر ان میں جتنا اللہ کو منظور تھا ، اضافہ ہوتا چلا گیا ، ایک عرصہ گزرنے کے بعد میرے پاس ایک بوڑھا کمزور شخص گزرا ، جسے میں پہچانتا نہیں تھا ، اس نے کہا: میرا تمہارے پاس ایک حق ہے ، پھر اس نے مجھے یاد کروایا تو میں پہچان گیا ، میں نے کہا: میں تمہیں ہی ملنا چاہ رہا تھا ، یہ تمہارا حق ہے ، پھر میں نے وہ تمام جانور اس کو دیدیے ، اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم میرا مذاق نہ اڑاؤ ! اگر تم مجھے کوئی چیز دے نہیں سکتے ، تو مجھے میرا حق تو دیدو ، تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، یہ تمہارا حق ہے ، اس میں سے کوئی بھی چیز میری نہیں ہے ، تو میں نے وہ تمام جانور اس کے حوالے کر دیے ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ پتھر ذرا سا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے باہر دیکھ سکتے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا: میں نے بھی ایک مرتبہ ایک اچھائی کی تھی ، میرے پاس اضافی رقم موجود تھی ، لوگوں کو قحط سالی لاحق ہوئی ، ایک عورت میرے پاس آئی ، وہ مجھ سے بھلائی ( یعنی مالی تعاون ) کی طلبگار تھی ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہاری قربت چاہتا ہوں ، اس کے بغیر کچھ نہیں دوں گا ، اُس نے میری بات نہیں مانی ، وہ چلی گی ، پھر وہ واپس آئی ، پھر اس نے مجھے اللہ کے نام کی یاد دلائی ، تو میں نے اس کی بات نہیں مانی ، میں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کئے بغیر نہیں ہو گا ، اس نے میری بات نہیں مانی ، پھر وہ چلی گی ، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے شوہر سے کیا ، تو اس کے شوہر نے اس سے کہا: تم اپنا آپ اس کے حوالے کر دو اور اپنے بال بچوں کے لئے بہتری ( کی کوشش ) کرو ! تو وہ واپس میرے پاس آئی ، اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا ، میں نے اس کی بات کا انکار کیا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کیے بغیر نہیں ہو گا ، جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دیا ، جب میں پردہ ہٹانے لگا اور اس کے قرب کا ارادہ کیا تو وہ میرے نیچے کانپنے لگی ، میں نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے کہا: میں تمام جہانوں کے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈر رہی ہوں ، میں نے اس سے کہا: تم اس پریشانی کے عالم میں بھی اُس سے ڈر رہی ہو اور میں ایسی خوشحالی کے عالم میں بھی اُس سے نہیں ڈر رہا ہوں ، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا ، اور میں نے اُسے وہ معاوضہ دیدیا ، جو اس نے میرے ساتھ طے کیا تھا ، اُس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس کا پردہ ہٹانا چاہا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو وہ پتھر اتنا ہٹ گیا کہ وہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکتے تھے اور ان کے سامنے ( غار کی اندرونی صورت حال ) واضح ہو گئی تھی ۔ تیسرے شخص نے کہا: میں نے بھی ایک مرتبہ ایک نیک کام کیا تھا ، میرے ماں باپ بوڑھے عمر رسیدہ تھے ، میری بکریاں تھیں ، میں اپنے ماں باپ کو کھانا کھلاتا تھا اور انہیں پانی پلاتا تھا ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف واپس چلا جاتا تھا ، ایک دن بارش ہوئی ، تو میں اس وجہ سے جلدی نہیں آ سکا ، دیر ہو گئی ، یہاں تک کہ شام ہو گئی ، جب میں اپنے گھر آیا ، میں نے دودھ دوہنے کا برتن لے کر دودھ دوہ لیا ، میری بکری کھڑی ہوئی تھی ، میں اپنے ماں باپ کے پاس گیا ، تو میں نے اُن دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، یہ بات میرے لئے گرانی کا باعث ہوئی کہ میں انہیں بیدار کروں اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں اپنی بکری کو چھوڑ دوں ، پھر میں مسلسل بیٹھا رہا اور دودھ دوہنے والا برتن میرے ہاتھ میں رہا ، یہاں تک کہ صبح کے وقت وہ دونوں بیدار ہوئے ، تو میں نے اُن دونوں کو دودھ پلایا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ۔ “ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا کہ اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سن رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ پہاڑ سرکا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے کشادگی پیدا کر دی ، اور وہ لوگ ( غار سے ) باہر آ گئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔