حدیث نمبر: 13411
عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنَ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ ، فَأَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ [مِنْهُ] خَصَاصَةً ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَادْعُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ " . قَالَ : " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ ، فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا ، فَآتِيهِمَا ، فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُؤُوسِهِمَا ، حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتَهُ ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَفَّرَ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَهَا جُعْلَهَا . اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا . فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَمْشُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَوْقُوفًا عَلَى أَنَسٍ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَكِلَاهُمَا [رِجَالُهُ] رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پہلے زمانے کے لوگوں میں سے تین افراد روانہ ہوئے ، وہ اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ ( کمانے ) کے لیے نکلے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں داخل ہو گئے ، ایک پتھر ان پر آ کر گرا ، جس نے ( غار کے منہ کو بند کر دیا ) یہاں تک کہ وہ اس میں سے ایک جھری بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: پتھر گر گیا ہے ، نشان مٹ گیا ہے ، اب تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : اُن میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے ، میں ان کے لئے ان کے برتن میں دودھ دوہ لیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان دونوں کو سوئے ہوئے پایا ، تو میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں ان کے سرہانے سے ان کی خوراک کو ہٹا لوں ، یہاں تک کہ جب انہوں نے بیدار ہونا تھا اس وقت وہ خود ہی بیدار ہوئے ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پتھر کا ایک تہائی حصہ ہٹ گیا ، دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایک کام کے لئے ایک مزدور رکھا ، جو وہ کام کرتا رہا ، پھر وہ اس کا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا ، تو میں اس وقت غصے کے عالم میں تھا ، میں نے اسے ڈانٹا تو وہ چلا گیا ، اس نے اپنے اس کام کا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کام ( کے معاوضے ) کو اکٹھا کیا اور اسے پیداوار میں لگا دیا ، یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال بن گیا ، پھر وہ ایک مرتبہ وہ اپنا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا تو میں نے وہ ساری چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر میں چاہتا تو میں اسے صرف مخصوص پہلے والا معاوضہ دے سکتا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے یہ کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی عطا فرما ! تو پتھر ایک چوتھائی ہٹ گیا ، تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ مجھے ایک عورت اچھی لگتی تھی ، اس نے اس عورت کے لئے ایک مخصوص معاوضہ مقرر کیا ، جب اس عورت پر قدرت حاصل کی ، تو وہ اس عورت سے الگ ہو گیا اور اس کا معاوضہ بھی اس کے پاس ہی رہنے دیا ( اس شخص نے کہا: ) اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ اگر میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر نکل آئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، عبداللہ نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1870 و 1868) اخرجه احمد فى المسند (142/3)»