مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " . وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَسْحَقَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ ، حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا ، تو وہ ( آزاد ہونے والا ) جہنم سے بچاؤ کے لئے اس کا فدیہ بن جائے گا اور جو شخص اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کا زمانہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ اس کو پرے کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” جو مسلمان کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو جائے ، تو اس شخص کے لیے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔