مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي أَهْلًا وَأُمًّا وَأَبًا ، فَأَيُّهُمْ أَحَقُّ بِصِلَتِي ؟ قَالَ : أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ غَيْرِ إِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میری بیوی بھی ہے ، ماں بھی ہے اور باپ بھی ہے ، اُن میں سے کون میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، جو حسن سند کے ساتھ منقول ہے اور اس سند کے علاوہ ہے ، جو اس سے پہلے گزری ہے ۔