مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ : " أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الزَّكَاةِ فِي بَابِ الْيَدِ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى أَحَادِيثٌ نَحْوَ هَذَا . ¤سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتے دار ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے زکوۃ سے متعلق باب میں ، اوپر والے ہاتھ کے ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔