مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " وَالِدَكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے باپ کے ساتھ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔