مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ : " هَلْ بَقِيَ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ ؟ " . قَالَ : أُمِّي . قَالَ : " فَأَبْلِ اللَّهَ فِي بِرِّهَا ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ كَانَ لَكَ أَجْرُ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ وَمُجَاهِدٍ ، فَإِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ أُمُّكَ ، فَاتَّقِ اللَّهَ وَبِرَّهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ نَجِيحٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : مجھے جہاد میں حصہ لینے کا شوق ہے اور میں اس کی قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی باقی ہے ؟ اس نے جواب دیا : میری والدہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم اس خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرو ! جب تم ایسا کر لو گے ، تو تمہیں حج کرنے والے ، عمرہ کرنے والے اور جہاد کرنے والے شخص کی مانند اجر ملے گا ، جب تمہاری والدہ تم سے راضی ہوں گی ( تو یہ اجر ملے گا ) تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ( اس ) خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن نجیح کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔