مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَجَرْتَ الشِّرْكَ ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَذِنَا لَكَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ [فَاسْتَأْذِنْهُمَا] ، فَإِنْ فَعَلَا ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے ؟ لیکن جہاد باقی ہے ، کیا یمن میں تمہارے ماں باپ موجود ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُن دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ماں باپ کی طرف واپس چلے جاؤ اور ان دونوں سے اجازت مانگو ، اگر وہ اجازت دیدیتے ہیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔