مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي غَسَّانَ الضَّبِّيِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي بِظَهْرِ الْحَرَّةِ ، فَلَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ لِي : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبِي . قَالَ : لَا تَمْشِ بَيْنَ يَدَيْ أَبِيكَ ، وَلَكِنِ امْشِ خَلْفَهُ أَوْ إِلَى جَانِبِهِ ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ ، وَلَا تَمْشِ فَوْقَ إِجَّارٍ أَبُوكَ تَحْتَهُ ، وَلَا تَأْكُلْ عِرْقًا قَدْ نَظَرَ أَبُوكَ إِلَيْهِ لَعَلَّهُ قَدِ اشْتَهَاهُ . قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْعُقُوقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو غَسَّانَ وَأَبُو غَنْمٍ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوغسان ضبی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ پتھریلی سرزمین پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے والد ہیں ، انہوں نے فرمایا : تم اپنے والد کے آگے نہ چلنا ، بلکہ اُن کے پیچھے چلنا ، یا اُن کے ایک طرف چلنا اور تم کسی شخص کو یہ موقع نہ دینا کہ وہ تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے اور تم کسی ایسی بلند جگہ پر نہ چلنا کہ تمہارے والد نیچے ہو رہے ہوں ، اور تم کوئی ایسی گوشت والی ہڈی نہ کھانا ، جس کی طرف تمہارے والد دیکھ رہے ہوں ، ہو سکتا ہے ، انہیں اس کی خواہش ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت ، والدین کی نافرمانی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ابوغسان نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ابوغنم ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔