حدیث نمبر: 13396
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ وَمَعَهُ شَيْخٌ فَقَالَ لَهُ : " يَا فُلَانُ مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ " . قَالَ : أَبِي . قَالَ : فَلَا تَمْشِ أَمَامَهُ ، وَلَا تَجْلِسْ قَبْلَهُ ، وَلَا تَدْعُهُ بِاسْمِهِ ، وَلَا تَسْتَسِبَّ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَقَدْ نَقَلَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ أَنَّهُ وُثِّقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ بْنِ يَزِيدَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کے ساتھ ایک بوڑھا بھی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں شخص ! تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرے والد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کے آگے نہ چلنا اور ان سے پہلے نہ بیٹھنا اور انہیں ان کے نام سے نہ بلانا اور ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جو انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات نقل کی ہے کہ اس کی توثیق کی گی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عرعرہ بن یزید ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف