مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13395
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي الطَّوَافِ حَامِلًا أُمَّهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ أَدَّيْتُ حَقَّهَا ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَا بِرَكْزَةٍ وَاحِدَةٍ " . أَوْ كَمَا قَالَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤محمد محی الدین
اسی صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے اپنی والدہ کو اٹھا کر انہیں طواف کروایا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک تکلیف کا بھی حق نہیں بنتا ہے ، یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اس سے پہلے والی روایت کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔