مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمَلْتُ أُمِّي عَلَى عُنُقِي فَرْسَخَيْنِ فِي رَمْضَاءَ شَدِيدَةٍ ، لَوْ أُلْقِيَتْ فِيهَا بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ لَنَضِجَتْ ، فَهَلْ أَدَّيْتُ شُكْرَهَا ؟ فَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ لِطَلْقَةٍ وَاحِدَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ غَيْرِ كَذِبٍ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں شدید گرمی کے موسم میں اپنی والدہ کو اپنی گردن پر بٹھا کر دو فرسخ تک چلا ہوں ، ایسی گرمی تھی کہ اگر وہاں گوشت کا ٹکڑا ڈالا جاتا تو وہ پک جاتا ، تو کیا میں نے اپنی والدہ کا شکر ادا کر دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شاید یہ ، کسی ایک تکلیف کا بدل بنتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن جھوٹا نہیں ہے اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔