مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ [أَبِي] مَرْيَمَ الْحَنَفِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : مَا تَعْرِفُنِي ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : تَعْلَمُ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى الرَّدْمَ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ : أَنْتَ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : اجْلِسْ حَدِّثْنَا . قَالَ : انْطَلَقْتُ ، حَتَّى انْطَلَقْتُ إِلَى أَرْضٍ لَيْسَ لِأَهْلِهَا إِلَّا الْحَدِيدُ يَعْمَلُونَهُ ، فَدَخَلْتُ بَيْتًا فَاسْتَلْقَيْتُ فِيهِ عَلَى ظَهْرِي ، وَجَعَلْتُ رِجْلِي عَلَى جِدَارِهِ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، سَمِعْتُ صَوْتًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ ، فَرُعِبْتُ ، فَقَالَ لِي رَبُّ الْبَيْتِ : لَا تَذْعَرَنْ ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَضُرُّكَ ، هَذَا صَوْتُ قَوْمٍ يَنْصَرِفُونَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ هَذَا السَّدِّ . قَالَ : فَيَسُرُّكَ أَنْ تَرَاهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا لَبِنُهُ مِنْ حَدِيدٍ ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِثْلُ الصَّخْرَةِ ، وَإِذَا كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ ، وَإِذَا مَسَامِيرُ مِثْلَ الْجُذُوعِ . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " صِفْهُ لِي " . فَقُلْتُ : كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ قَدْ أَتَى الرَّدْمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : صَدَقَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، تَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤یوسف بن ابومریم حنفی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے انہیں سلام کیا اور بولا: کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے ؟ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا: آپ اس شخص کو جانتے ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا تھا : اس نے ( یاجوج ماجوج ) والی دیوار دیکھی ہوئی ہے ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیٹھو اور ہمیں بھی بیان کرو ، اس نے بتایا : ایک مرتبہ میں گیا اور ایک ایسی سرزمین پر پہنچ گیا ، جہاں کے رہنے والے لوگ صرف لوہے کا کام کرتے تھے ، میں ایک گھر میں داخل ہوا اور وہاں چت لیٹ گیا ، میں نے اپنا ایک پاؤں دیوار پر رکھا ، جب سورج غروب ہونے کا وقت ہوا تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز نہیں سنی تھی ، میں پریشانی کا شکار ہو گیا ، گھر کے مالک نے مجھ سے کہا: تم پریشان نہ ہو کیونکہ یہ چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہ یاجوج ماجوج کی آواز ہے ، وہ اس وقت اس رکاوٹ سے واپس جاتے ہیں ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم اس دیوار کو دیکھنا چاہتے ہو ، میں نے کہا: جی ہاں ، وہ شخص کہتا ہے : پھر میں اس دیوار کی طرف گیا تو اس کی اینٹیں لوہے کی بنی ہوئی تھیں ، ان میں سے ہر ایک اینٹ چٹان کی مانند تھی اور وہ یوں لگتا تھا ، جیسے وہ نقش و نگار والی چادریں ہوں ، اور اُن کے کیل کجھور کے درختوں کی مانند تھے ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ، تو میں نے عرض کی : وہ محبرہ چادروں کی مانند تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی ایسے شخص کو دیکھے ، جو اس دیوار تک پہنچا ہے ، اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہئے ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے متروک قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔