مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
حدیث نمبر: 13374
وَعَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَدَارَتْ تَطْلُبُهُ ، فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا ، فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا ، فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا ، فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ . أَيْ : يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
موسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں : سیدہ مریم علیہا السلام نے ایک مرتبہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو غیر موجود پایا ، تو وہ ان کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں ، ان کی ملاقات ایک جولاہے سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو تم ہمیشہ ایسے شخص کو حیران و پریشان دیکھو گے ، پھر ان کی ملاقات ایک درزی سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی کی ، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے انسیت محسوس ہوتی ہے ، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن عیینہ کے حوالے سے ان سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ثقہ ہیں ۔