مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
حدیث نمبر: 13366
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ : عَنِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خُلِقْنَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ نُورِ الْعَرْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
عبیداللہ بن ابوبکر بن انس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : سورج چاند اور ستارے کہ انہیں کس سے پیدا کیا گیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ ” انہیں عرش کے نور سے پیدا کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معقل بن مالک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔