حدیث نمبر: 13363
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : أَرَأَيْتَ الْأَرْضَ عَلَى مَا هِيَ ؟ فَقَالَ : " الْأَرْضُ عَلَى الْمَاءِ " . فَقِيلَ : الْمَاءُ عَلَى مَا هُوَ ؟ قَالَ : " عَلَى صَخْرَةٍ " . فَقِيلَ : الصَّخْرَةُ عَلَى مَا هِيَ ؟ قَالَ : " هِيَ عَلَى ظَهْرِ حُوتٍ يَلْتَقِي طَرَفَاهُ بِالْعَرْشِ " . قِيلَ : الْحُوتُ عَلَى مَا هُوَ ؟ " عَلَى كَاهِلِ مَلَكٍ قَدَمَاهُ الْهَوَاءُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ - يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ، عرض کی گئی : آپ کیا کہتے ہیں ، زمین کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین پانی پر ہے ، عرض کی گئی : پانی کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ چٹان پر ہے ۔ عرض کی گئی : چٹان کسی چیز پر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک مچھلی کی پشت پر ہے ، جس کے دونوں کنارے عرش کے ساتھ ملتے ہیں ، عرض کی گئی : وہ مچھلی کس چیز پر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک فرشتے کے کندھے پر ہے ، جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن أحمد یعنی عبداللہ بن أحمد بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2086) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7705)»