مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
حدیث نمبر: 13353
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةٍ آخِذٌ بِغَرْزِهِ يَرْتَجِزُ يَقُولُ : ¤ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے داخل ہوئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ، اور وہ رجز کے طور پر یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” اے کفار کی اولاد ! ان کے راستے کو چھوڑ دو ، رحمان نے اپنی کتاب میں یہ نازل کیا ہے کہ سب سے بہترین مقتول وہ ہے ، جو اس کی راہ میں مارا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔