مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنْ [أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ ] نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : " انْزِلْ فَأَسْمِعْنَا مِنْ هَنَّاتِكَ " . قَالَ : فَأَنْشَأَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ¤ وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ¤ وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِعَامِرٍ أَوْ بِشِعْرِ عَامِرٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ التَّيْهَانِ فِي هَذَا الْبَابِ . ¤ابوہیثم بن نصر بن دہر اسلمی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور ہمیں اپنے اشعار سناؤ ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنے شروع کیے : ” اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے صدقہ نہیں کرنا تھا ، اور نماز نہیں پڑھنی تھی ، تو ہم پر سکینت نازل کر اور جب ہم دشمن کا سامنا کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھنا ، دشمن نے ہمارے خلاف سرکشی کی ہے ۔ وہ فتنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم انکار کرتے ہیں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ عامر کے حوالے سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر کی شاعری کے حوالے سے ہمیں نفع حاصل کرنے دیتے تو یہ مناسب تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس سے پہلے اس باب میں سیدنا تیہان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔