مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِمَارِ باب: جوئے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَعِيدٍ - قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبدالرحمن بن ابوسعید بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص نرد ( چوسر یا شطرنج کھیلتا ہے ) اور پھر اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو پیپ اور خنزیر کے ذریعے وضو کرتا ہے ، اور پھر نماز ادا کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔