حدیث نمبر: 13260
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَهَاتَانِ اللُّعْبَتَانِ الْمَرْسُومَتَانِ اللَّتَانِ تَزْجُرَانِ زَجْرًا ، فَإِنَّهُمَا مَيْسِرُ الْعَجَمِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ان نشان والی گوٹیوں ( یعنی شطرنج یا چوسر ) کے مہروں سے پرہیز کرو ، جو دونوں روکتی ہیں ( شاید یہ مراد ہے پر کہ اس کھیل میں مقابل کی گوٹ پیٹ دی جاتی ہے ) کیونکہ یہ عجمیوں کا جوا ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13261
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَعِيدٍ - قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوسعید بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص نرد ( چوسر یا شطرنج کھیلتا ہے ) اور پھر اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو پیپ اور خنزیر کے ذریعے وضو کرتا ہے ، اور پھر نماز ادا کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13262
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّاعِبُ بِالنَّرْدِ كَوَاضِعِ يَدَهُ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ ، وَالنَّاظِرُ إِلَيْهَا كَوَاضِعِ يَدَهُ فِي دَمِ الْخِنْزِيرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نرد ( شطرنج یا چوسر ) کھیلنے والا شخص اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت میں ڈالنے والے شخص کی مانند ہے ، اور اس ( شطرنج یا چوسر ) کی طرف دیکھنے والا شخص اپنا ہاتھ خنزیر کے خون میں ڈالنے والے کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13263
وَعَنْهُ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الشَّاهِ ، وَهِيَ الشِّطْرَنْجُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے گزشتہ رات خواب میں دیکھا کہ جو بھی بندہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے درجہ کو بلند کر دیتا ہے ، البتہ ” شاہ “ والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد شطرنج ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13264
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ : تَعَالَ أُقَامِرُكَ . فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13265
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اجْتَنِبُوا هَذِهِ الْكِعَابَ الْمَوْسُومَةَ الَّتِي يُزْجَرُ بِهَا زَجْرًا ، ( فَإِنَّهَا مِنَ الْمَيْسِرِ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ یہ فرماتے ہیں : ” تم لوگ ان نشان والی گوٹیوں ( یعنی شطرنج ) کے مہروں سے پرہیز کرو ، جو دونوں روکتی ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ اس کھیل میں مقابل کی گوٹ پیٹ دی جاتی ہے ) کیونکہ یہ جوئے کا حصہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔