مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ باب: مشکیزوں کا منہ باندھ دو اور روازے بند کر دو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ تَحْتَ اللَّيْلِ كَيْفَ شَاءَ ، فَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَغَطُّوا الْإِنَاءَ ، فَإِنَّهُ لَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جسے وہ رات ہونے پر پھیلا دیتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے ، تو تم مشکیزوں کے منہ بند کر دو ، دروازے بند کرو ، برتنوں کو ڈھانپ دو کیونکہ وہ ( مخلوق میں سے کوئی فرد ) کوئی دروازہ کھول نہیں سکتا ، کسی ڈھانپی ہوئی چیز پر سے ہٹا نہیں سکتا اور کسی بند مشکیزے کا منہ کھول نہیں سکتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔