مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْمِ الدَّوَابِّ باب: جانوروں کو داغ لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13244
وَعَنْ نُقَادَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسِمُ . قَالَ : " أَوَلَمَ أَرَكَ تَسِمُ فِي الْوَجْهِ ؟ لَا تَحْرِقِ اللَّحْمَ " . قُلْتُ : فَأَيْنَ أَسِمُ ؟ قَالَ : " فِي مَوْضِعِ الْجَرِيرِ مِنَ السَّالِفَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں داغ لگا لوں ، آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں چہرے پر داغ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، تم گوشت کو نہ جلاؤ ، میں نے عرض کی : پھر میں کہاں داغ لگواؤں ؟ آپ نے فرمایا : پیچھے کی طرف جو رسی کی جگہ ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔