حدیث نمبر: 13243
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادَةَ - أَحَدُ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جُنَادَةَ - قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُهَا فِي أَنْفِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "يَا جُنَادَةُ ، فَمَا وَجَدْتَ عُضْوًا تَسِمُهُ إِلَّا فِي الْوَجْهِ ؟ أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقَصَاصَ " . فَقَالَ : أَمْرُهَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وَسْمٌ " . فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ ، فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ فِي الْعُنُقِ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ : " أَخِّرْ أَخِّرْ " حَتَّى بَلَغَ الْفَخِذَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ " . فَوَسَمْتُهَا فِي أَفْخَاذِهَا ، وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَيْنِ ، وَكَانَتْ تِسْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جنادہ بن جرادہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو غیلان بن جنادہ سے ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک اونٹ ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اس کی ناک پر داغ لگایا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جنادہ تمہیں داغ لگانے کے لئے چہرے کے علاوہ اور کوئی عضو نہیں ملا ؟ آگے چل کے تمہیں اس کا بدلہ دینا ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس جانور کا معاملہ آپ کے سپرد ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسا جانور لے کے آؤ ، جس پر داغ نہ لگا ہوا ہو ، تو میں ایک ابن لبون اور ایک حقہ لے کر آپ کے پاس آیا ، میں نے داغ لگانے والا آلہ ( اس جانور کی ) گردن پر رکھا ، آپ مسلسل یہی فرماتے رہے ، پیچھے کرو اور پیچھے کرو ، یہاں تک کہ وہ آلہ زانوں تک پہنچ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی برکت کے ہمراہ داغ لگا دو ، تو میں نے اس کے زانوں پر داغ لگایا ، ان کا صدقہ دو حقہ بنتے تھے اور وہ نوے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2179)»