مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ صَاحِبِ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا باب: جانور کا مالک ، اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ ، فَأَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ ، فَاشْتَمَلَ بِهَا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى حِكْثِهِ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ ، فَقَالَ : " صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالْحِمَارُ لَكَ . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى : عُكُنِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے پانی رکھا ، آپ نے غسل کیا ، ہم آپ کے پاس ورس لگا ہوا لحاف لے کر آئے ، وہ آپ نے اوڑھ لیا ، میں گویا اس وقت بھی آپ کے پیٹ پر ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں ، پھر ہم آپ کے پاس گدھا لے کر آئے تاکہ آپ اس پر سوار ہوں ، تو آپ نے فرمایا : گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف «عُكنِه» تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔