مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ صَاحِبِ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا باب: جانور کا مالک ، اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ ، فَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ : ارْكَبْ . فَأَبَى ، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا " . فَقَالَ حَبِيبٌ : إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤عبدالرحمن بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : حبیب بن مسلمہ ، سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہلے فتنے کے زمانے میں آئے ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے ۔ وہ زین سے پیچھے ہوئے اور بولے : آپ سوار ہو جائیں ، تو انہوں نے انکار کر دیا ، سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔ “ تو حبیب نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی ہے م میں اس سے ناواقف نہیں ہوں لیکن مجھے آپ کے بارے میں اندیشہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔