حدیث نمبر: 13215
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الشَّامِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أُعْطِيَاتِهِمْ ، وَاغْزُ بِهِمْ ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ زَمَانٍ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، مُرْ لِي بِعَطَائِي ; فَإِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ . قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ صَالِحِي الْعَبِيدِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِينَ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُدُنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ; لِفَضْلِ الْمَدَائِنِ وَالْجَمَاعَاتِ وَالْجُمُعَاتِ وَحِلَقِ الذِّكْرِ ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا امیر مقرر کیا اور انہیں یہ خط لکھا کہ آپ لوگوں کو ان کے عطیات دیدیں اور انہیں جنگ میں ساتھ لے کے جائیں ، ایک مرتبہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے ، یہ آخری زمانے کی بات ہے ، اسی دوران رستاق کا رہنے والا ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ! آپ میرے بارے میں میرے سرکاری عطیے کو دینے کا حکم دیں ، کیونکہ میں رستاک کا رہنے والا شخص ہوں ، جو فلاں جگہ پر رہتا ہوں تاکہ میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم تمہیں اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک ان لوگوں کو یعنی شہر والوں کو نہیں دیدیتے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمام انبیاء کرام سیدنا سلیمان علیہ السلام سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور نیک غلام دوسرے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، ویرانے کے رہنے والے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، کیونکہ شہروں کو اور اجتماعات کو اور جمعوں کو اور ذکر کے حلقوں کو فضیلت حاصل ہوتی ہے ، اور جب کوئی آزمائش آتی ہے ، تو وہ بطور خاص ان لوگوں پر آتی ہے دوسروں پر نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (77/20)»