مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْكُنُ الْبَادِيَةَ وَالْكُفُورَ باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، جو ویرانے ، یا چھوٹی بستی میں رہائش اختیار کرتا ہے
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمُدُّوا طُنُبًا لِبَدْوٍ; فَإِنَّ الْبَدْوَ الْجَفَاءُ ، يَدُ اللَّهِ فِي الْجَمَاعَةِ وَلَا يُبَالِي اللَّهُ شُذُوذَ مَنْ شَذَّ ، وَلَا يَرْكَبُ الدَّابَّةَ فَوْقَ اثْنَيْنِ ، وَلَا تَضْرِبُوا وُجُوهَ الدَّوَابِّ; فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ، وَلَا تُسَمُّوا أَبْنَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمُ : الْحَكَمَ وَلَا أَبَا الْحَكَمِ; فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بدوی زندگی کے لئے خیمے کی طنابیں نہ کھینچو کیونکہ بدوی زندگی سے سختی آتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ، اور الگ ہونے والے کی اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں کرے گا ، اور جانور پر دو سے زیادہ افراد سوار نہ ہوں اور تم جانوروں کے چہروں پر نہ مارو کیونکہ ہر چیز اس ( پروردگار ) کی حمد کے ہمراہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے ، تم اپنے بیٹوں یا بھائیوں کا نام حکم یا ابوالحکم نہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ ” حکم “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔