کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، جو ویرانے ، یا چھوٹی بستی میں رہائش اختیار کرتا ہے
حدیث نمبر: 13210
عَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَا جَفَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے ۔ اس میں سختی آ جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن حکم نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1654) اخرجه أحمد فى المسند (297/4)»
حدیث نمبر: 13211
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَتْرُكُونَ الْجَمَاعَاتِ وَيَبْدُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کی ہلاکت کتاب اور دودھ کی وجہ سے ہو گی ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کتاب اور دودھ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ قرآن کا علم حاصل کریں گے اور پھر اس کی تفسیر اس کے برعکس کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، اور وہ لوگ دودھ کو پسند کریں گے ، اور جماعت کو ترک کر دیں گے ، اور ویرانوں میں رہائش اختیار کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1746) اخرجه احمد فى المسند (155/4)»
حدیث نمبر: 13212
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا اللَّبَنَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ بَيْنَ الرَّغْوَةِ وَالصَّرِيحِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف دودھ کے حوالے سے اندیشہ ہے کیونکہ شیطان دودھ کے جھاگ اور خالص دودھ کے درمیان میں ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6640)»
حدیث نمبر: 13213
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَنْزِلُوا الْكُفُورَ ، فَإِنَّهَا بِمَنْزِلَةِ الْقُبُورِ " . يَعْنِي الْقُرَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ دیہاتوں میں پڑاؤ نہ کرو کیونکہ وہ قبروں کی مانند ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : لفظ کفور سے مراد چھوٹی بستیاں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13214
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمُدُّوا طُنُبًا لِبَدْوٍ; فَإِنَّ الْبَدْوَ الْجَفَاءُ ، يَدُ اللَّهِ فِي الْجَمَاعَةِ وَلَا يُبَالِي اللَّهُ شُذُوذَ مَنْ شَذَّ ، وَلَا يَرْكَبُ الدَّابَّةَ فَوْقَ اثْنَيْنِ ، وَلَا تَضْرِبُوا وُجُوهَ الدَّوَابِّ; فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ، وَلَا تُسَمُّوا أَبْنَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمُ : الْحَكَمَ وَلَا أَبَا الْحَكَمِ; فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بدوی زندگی کے لئے خیمے کی طنابیں نہ کھینچو کیونکہ بدوی زندگی سے سختی آتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ، اور الگ ہونے والے کی اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں کرے گا ، اور جانور پر دو سے زیادہ افراد سوار نہ ہوں اور تم جانوروں کے چہروں پر نہ مارو کیونکہ ہر چیز اس ( پروردگار ) کی حمد کے ہمراہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے ، تم اپنے بیٹوں یا بھائیوں کا نام حکم یا ابوالحکم نہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ ” حکم “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13215
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الشَّامِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أُعْطِيَاتِهِمْ ، وَاغْزُ بِهِمْ ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ زَمَانٍ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، مُرْ لِي بِعَطَائِي ; فَإِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ . قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ صَالِحِي الْعَبِيدِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِينَ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُدُنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ; لِفَضْلِ الْمَدَائِنِ وَالْجَمَاعَاتِ وَالْجُمُعَاتِ وَحِلَقِ الذِّكْرِ ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا امیر مقرر کیا اور انہیں یہ خط لکھا کہ آپ لوگوں کو ان کے عطیات دیدیں اور انہیں جنگ میں ساتھ لے کے جائیں ، ایک مرتبہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے ، یہ آخری زمانے کی بات ہے ، اسی دوران رستاق کا رہنے والا ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ! آپ میرے بارے میں میرے سرکاری عطیے کو دینے کا حکم دیں ، کیونکہ میں رستاک کا رہنے والا شخص ہوں ، جو فلاں جگہ پر رہتا ہوں تاکہ میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم تمہیں اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک ان لوگوں کو یعنی شہر والوں کو نہیں دیدیتے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمام انبیاء کرام سیدنا سلیمان علیہ السلام سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور نیک غلام دوسرے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، ویرانے کے رہنے والے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، کیونکہ شہروں کو اور اجتماعات کو اور جمعوں کو اور ذکر کے حلقوں کو فضیلت حاصل ہوتی ہے ، اور جب کوئی آزمائش آتی ہے ، تو وہ بطور خاص ان لوگوں پر آتی ہے دوسروں پر نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (77/20)»