حدیث نمبر: 13205
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَرَأَى عِنْدَهُمْ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، لَوْ قَدْ فَتَحَ اللَّهُ الطَّائِفَ ، لَأَرَيْتُكَ بَادِيَةَ بِنْتَ غَيْلَانَ ، وَهِيَ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ هَؤُلَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے ان کے ہاں ایک ہیجڑے کو پایا جو یہ کہہ رہا تھا : اے عبداللہ بن ابوامیہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے طائف فتح کروا دیا تو میں تمہیں بادیہ بنت غیلان دکھاؤں گا ، جو آتی ہے تو چار سلوٹیں پڑتی ہیں ، اور جاتی ہے تو آٹھ پڑتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس قسم کے لوگ تمہارے ہاں اندر نہ آئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8297)»