مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَحْدَةِ باب: اکیلے ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ رَجُلًا خَرَجَ ، فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ ، وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ : ارْجِعُوا ارْجِعُوا . قَالَ : فَرَجَعَا قَالَ : فَقَالَ لَهُ : إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا ، فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا ، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ أَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ . قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْخَلْوَةِ عِنْدَ ذَلِكَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نکلا ، اس کے پیچھے دو آدمی گئے اور ان دونوں کے پیچھے ایک اور شخص تھا جو یہ کہہ رہا تھا ، تم لوگ واپس آ جاؤ ، تم لوگ واپس آ جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : تو دو افراد واپس آ گئے ، تو انہوں نے ان سے کہا: یہ دونوں دو شیطان ہیں ، میں مسلسل ان دونوں کے ساتھ رہا یہاں تک کہ میں نے انہیں واپس کروا دیا ، جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کہنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں نے اپنے صدقات جمع کر لیے ہیں ، اگر آپ ان کے بارے میں کچھ مناسب سمجھتے ہیں تو ہم انہیں اس طرف بھجوا دیتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت خلوت سے منع کیا ۔