مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَرْقُدُ عَلَى وَجْهِهِ باب: اس شخص کا بیان جو چہرے کے بل ( یعنی الٹا ہو کر ) سوتا ہے
حدیث نمبر: 13188
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ يُخْبِرُهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ الرَّجُلَ رَاقِدًا عَلَى وَجْهِهِ ، لَيْسَ عَلَى عَجُزِهِ شَيْءٌ ، رَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " هَذِهِ أَبْغَضُ الرَّقْدَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید نے اپنے والد سیدنا شرید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ جب آپ کسی شخص کو چہرے کے بل لیٹا ہوا دیکھتے تھے کہ اس کی سرین پر کوئی چیز نہ ہو ، تو آپ اسے پاؤں مارتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لیٹنے کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ طریقہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔