حدیث نمبر: 13138
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ أَسَانِيدِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ جب وہ دکھائی دیں تو اللہ کی یاد آ جائے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ چغلی کرنے والے اور دوستوں کے درمیان فساد پیدا کرنے والے اور شریف لوگوں کے بارے میں سرکشی تلاش کرنے والے لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس کی اسانید میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167/24) اخرجه احمد فى المسند (459/6)»