کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13121
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَفَعَتْ رِيحٌ مُنْتِنَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اسی دوران ایک بدبودار ہوا آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کس چیز کی ہوا ہے ؟ یہ ان لوگوں کی بُو ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2310) اخرجه احمد فى المسند (351/3)»
حدیث نمبر: 13122
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْغِيبَةِ وَعَنْ الِاسْتِمَاعِ إِلَى الْغِيبَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غیبت کرنے اور غیبت سننے سے منع کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13122
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12615)»
حدیث نمبر: 13123
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّمِيمَةِ وَالِاسْتِمَاعِ إِلَى النَّمِيمَةِ . رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع کیا ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13123
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13124
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " النَّمِيمَةُ وَالشَّتِيمَةُ وَالْحَمِيَّةُ فِي النَّارِ ( وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي صَدْرِ مُؤْمِنٍ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چغلی کرنا برا کہنا اور حمیت ، جہنم میں ہوں گی اور یہ کسی مومن کے سینے میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے محمد بن یزید بن سنان کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13125
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : الْقَائِلُ الْفَاحِشَةَ ، وَالَّذِي يَسْمَعُ فِي الْإِثْمِ سَوَاءٌ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَسَّانِ بْنِ كُرَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : بری بات کہنے والا اور اسے سننے والا گناہ میں برابر ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسان بن کریب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (553)»
حدیث نمبر: 13126
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنِّي ذُو حَسَدٍ ، وَلَا نَمِيمَةٍ ، وَلَا كِهَانَةٍ ، وَلَا أَنَا مِنْهُ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ : ( وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حسد کرنے والے ، چغلی کرنے والے ، کہانت کرنے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی عمل ( یعنی جرم ) کے بغیر اذیت پہنچاتے ہیں تو ایسے لوگ بہتان اور واضح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13126
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13127
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ ، وَالنَّمِيمَةُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار ! جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور چغلی قبر کے عذاب کا باعث ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13127
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7440)»
حدیث نمبر: 13128
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا " . فَقِيلَ : وَكَيْفَ ؟ قَالَ : " الرَّجُلُ يَزْنِي ثُمَّ يَتُوبُ ، فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَ لَهُ صَاحِبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے ۔ عرض کی گئی : وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا : ایک شخص زنا کرتا ہے پھر وہ توبہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، لیکن غیبت کرنے والے شخص کی اس وقت تک توبہ قبول نہیں ہوتی ، جب تک متعلقہ فرد اس کو معاف نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13128
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13129
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ لَحْمَ أَخِيهِ فِي الدُّنْيَا قُرِّبَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ : كُلْهُ حَيًّا كَمَا أَكَلْتَهُ مَيِّتًا ، فَيَأْكُلُهُ وَيَكْلَحُ وَيَصِيحُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھاتا ہے ، قیامت کے دن اسے اس کے قریب کیا جائے گا ، اور اس سے کہا: جائے گا : تم اس کے زندہ ہونے کے عالم میں اس کو کھاؤ ، جس طرح تم نے اسے مردہ ہونے کے طور پر کھایا تھا ، تو وہ اس کو کھائے گا اور ماتھے پر بل ڈالے گا اور چیخے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1677)»
حدیث نمبر: 13130
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ يَغْتَابُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ، فَيُقَالُ لَهُ : كُلْ لَحْمَ أَخِيكَ مَيِّتًا كَمَا أَكَلْتَهُ حَيًّا " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص کو لایا جائے گا ، جو دنیا میں لوگوں کی غیبت کیا کرتا تھا تو اس سے کہا: جائے گا : تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ ، جس طرح تم نے اس کے زندہ ہونے کے عالم میں اس کا گوشت کھایا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13131
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ فِي النَّارِ ، فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ قَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ . وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا ( شَعْثًا إِذَا رَأَيْتَهُ ) ، قَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَابُوسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں دیکھا تو وہاں کچھ لوگ تھے جو مردار کھا رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے ، پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو نیلی آنکھوں ، بکھرے ہوئے گھنگھریالے بالوں والا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے یہ بتایا : یہ ( سیدنا صالح علیہ السلام ) اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2324)»
حدیث نمبر: 13132
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " تَدْرُونَ أَزْنَى الزِّنَا عِنْدَ اللَّهِ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " فَإِنَّ أَزْنَى الزِّنَا عِنْدَ اللَّهِ ، اسْتِحْلَالُ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا ) . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” کیا تم یہ جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا زنا کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا زنا یہ ہے کہ کسی مسلمان شخص کی عزت کو حلال قرار دیا جائے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو لوگ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ان کے کسی عمل کے بغیر اذیت پہنچاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4689)»
حدیث نمبر: 13133
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَزْنَى الزِّنَا اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ أَخِيهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے بڑا زنا یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت پر حملہ آور ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابونعیم کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3569)»
حدیث نمبر: 13134
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَزْنَى الزِّنَا اسْتِطَالَةُ أَحَدِكُمْ فِي عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْأَيْلِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأُبَلِّيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے بڑا زنا یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ آور ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن موسیٰ ایلی کے حوالے سے عمرو بن یحیی ابلی سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (862)»
حدیث نمبر: 13135
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، وَبِرَجُلٍ عَنْ يَسَارِهِ ، فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، وَقَالَ : بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ؛ فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ ؟ " . فَاسْتَبَقْنَا فَسَبَقْتُهُ ، فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ ، فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، قَالَ : " إِنَّهُ يُهَوَّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، آپ کی بائیں طرف ایک اور شخص تھا ، ہمارے سامنے دو قبریں آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ( یعنی ایسا بڑا گناہ جس سے بچنا مشکل ہو ) تم میں سے کون شخص میرے پاس ایک شاخ لے کر آئے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم دونوں گئے اور میں اپنے ساتھی سے پہلے شاخ لے کے آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک قبر پر ایک ٹکڑا رکھ دیا اور دوسری قبر پر دوسرا ٹکڑا رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں تر رہیں گی ، ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی ، اور ان دونوں کو غیبت کرنے اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے ) نہ بچنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بحر بن مرار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (35/5)»
حدیث نمبر: 13136
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي النَّمِيمَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص ( کی قبر ) کے پاس سے ہوا ، جسے اس کی قبر میں چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13136
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1058)»
حدیث نمبر: 13137
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ أَنَّهُ عَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا كَانَ يَأْكُلُ لُحُومَ النَّاسِ " . ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ رَطْبَةٍ ، فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ وَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انہیں یہ بات پتہ ہے کہ آپ قبر کے پاس تشریف لائے ، جس کے مردے کو عذاب ہو رہا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ شخص لوگوں کا گوشت کھایا کرتا تھا ، پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی اور اسے اس کی قبر پر رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے کہ جب تک یہ شاخ تر رہے ۔ اس وقت تک اس شخص کے ( عذاب میں ) تخفیف ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13137
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (172/4)»
حدیث نمبر: 13138
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ أَسَانِيدِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ جب وہ دکھائی دیں تو اللہ کی یاد آ جائے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ چغلی کرنے والے اور دوستوں کے درمیان فساد پیدا کرنے والے اور شریف لوگوں کے بارے میں سرکشی تلاش کرنے والے لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس کی اسانید میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167/24) اخرجه احمد فى المسند (459/6)»
حدیث نمبر: 13139
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ ، وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہنچی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ کے بندوں میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے اور اللہ کے بندوں میں سب سے برے وہ لوگ ہیں ، جو چغلی کرتے ہیں ، دوستوں کے درمیان علیحدگی پیدا کرتے ہیں ، اور شریف لوگوں کے بارے میں سرکشی تلاش کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المستند (227/4)»
حدیث نمبر: 13140
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خِيَارُ أُمَّتِي الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ ، وَإِنَّ شِرَارَ أُمَّتِي الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں ، جو نظر آئیں تو اللہ تعالیٰ یاد آ جائے اور میری امت کے برے لوگ وہ ہیں ، جو چغلی کرتے ہیں ، دوستوں کے درمیان علیحدگی پیدا کرتے ہیں اور شریف لوگوں کے بارے میں سرکشی تلاش کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13140
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13141
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي بُيُوتِهَا - أَوْ قَالَ : فِي خُدُورِهَا - فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ( آپ کی آواز اتنی بلند تھی ) کہ وہ گھروں میں موجود پردہ دار خواتین تک آ رہی تھی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ لفظ گھروں استعمال ہوا ہے یا لفظ پردے استعمال ہوا ہے ) آپ نے فرمایا : اے وہ گروہ جو اپنی زبان کے ذریعے ایمان لے آیا ہے ، لیکن ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے ، تم لوگ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو ، ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کی طرف متوجہ ہو گا ، اور جس شخص کے پوشیدہ معاملے کی طرف اللہ تعالیٰ متوجہ ہو گا ، اس کو اس کے گھر میں بیٹھے رہنے کے دوران رسوائی کا شکار کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1675)»
حدیث نمبر: 13142
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : صَلَّيْنَا الظُّهْرَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا غَضْبَانَ ، فَنَادَى بِصَوْتٍ أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي أَجْوَافِ الْخُدُورِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ فَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ ، لَا تَذُمُّوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَطَلَّبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ هَتَكَ اللَّهُ سِتْرَهُ ، وَأَبْدَى عَوْرَتَهُ ، وَلَوْ كَانَ فِي سِتْرِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَقَالَ بَدَلَ : " لَا تَذُمُّوا الْمُسْلِمِينَ " : " لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ " ، وَفِيهِ رُمَيْحُ بْنُ هِلَالٍ الطَّائِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنِ وَاضِحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہوئے ، تو آپ غصے کے عالم میں ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بلند آواز میں آپ نے ارشاد فرمایا : جو آواز گھروں میں موجود خواتین تک بھی جا رہی تھی ، آپ نے فرمایا : ” اے وہ گروہ جس نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے ، تم لوگ مسلمانوں کی مذمت نہ کرو ، ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پردے کو پھاڑ دے گا اور اس کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دے گا ، خواہ وہ اپنے گھر کے پردے میں موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ ” تم مسلمانوں کی مذمت نہ کرو “ اس کی جگہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی رمیح بن ہلال طائی ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ ابوتمیلہ یحیی بن واضح کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1155)»
حدیث نمبر: 13143
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي خُدُورِهِنَّ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لَا تُؤْذُوا الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ هَتَكَ اللَّهُ سِتْرَهُ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِ مَنْ يَتَّبِعُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحُهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا جس کی آواز گھروں میں موجود پردہ دار خواتین تک جا رہی تھی ، آپ نے فرمایا : ” اے وہ گروہ جو اپنی زبان کے ذریعے ایمان لے آئے ہیں لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ، تم لوگ اہل ایمان کو اذیت نہ پہنچاؤ اور ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پردے کو پھاڑ دے گا ، اور جس شخص کے پوشیدہ معاملے کی طرف اللہ تعالیٰ متوجہ ہو گا اسے رسوائی کا شکار کر دے گا ، خواہ وہ ( شخص ) اپنے گھر کے اندر موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11444)»
حدیث نمبر: 13144
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْجَزَ - أَوْ قَالَ : مَا أَصْعَبَ - فُلَانًا ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَبْتُمْ صَاحِبَكُمْ وَأَكَلْتُمْ لَحْمَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : إِنَّ رَجُلًا قَامَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَوْا فِي قِيَامِهِ عَجْزًا ، فَقَالُوا : مَا أَعْجَزَ فُلَانًا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكَلْتُمْ أَخَاكُمْ وَاغْتَبْتُمُوهُ " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ لَهُ : حَمَّادٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کتنا عاجز ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) فلاں شخص کتنا کمزور ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اپنے ساتھی کی غیبت کی ہے اور تم نے اس کا گوشت کھایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کے گیا ، لوگوں نے اس کے اٹھنے میں عاجز ہونا دیکھا تو یہ کہا: فلاں شخص کتنا عاجز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اپنے بھائی کو کھایا ہے اور تم لوگوں نے اس کی غیبت کی ہے ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور ایک قول کے مطابق حماد ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13144
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6151) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (461)»
حدیث نمبر: 13145
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ ، فَوَقَعَ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَخَلَّلْ " . فَقَالَ : وَمَا أَتَخَلَّلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتُ لَحْمًا ؟ فَقَالَ : " إِنَّكَ أَكَلْتَ لَحْمَ أَخِيكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص اٹھ کر گیا ، تو اس کے بعد ایک اور شخص نے اس کے بارے میں کچھ کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خلال کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس وجہ سے خلال کروں ، میں نے کوئی گوشت کھایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10092)»
حدیث نمبر: 13146
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ فَقَالُوا : مَا أَعْجَزَهُ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَبْتُمْ أَخَاكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْنَا مَا فِيهِ . قَالَ : " إِنْ قُلْتُمْ مَا لَيْسَ فِيهِ فَقَدْ بَهَتُّمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے آپ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا اور یہ کہا: کہ فلاں شخص کتنا عاجز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے اپنے بھائی کی غیبت کی ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اس کے بارے میں اگر کوئی ایسی بات کی ہو ، جو اس میں نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم ایسی بات کرو جو اس میں نہ ہو ، تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (39/20)»