مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ أَنَّهُ عَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا كَانَ يَأْكُلُ لُحُومَ النَّاسِ " . ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ رَطْبَةٍ ، فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ وَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا یعلیٰ بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انہیں یہ بات پتہ ہے کہ آپ قبر کے پاس تشریف لائے ، جس کے مردے کو عذاب ہو رہا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ شخص لوگوں کا گوشت کھایا کرتا تھا ، پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی اور اسے اس کی قبر پر رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے کہ جب تک یہ شاخ تر رہے ۔ اس وقت تک اس شخص کے ( عذاب میں ) تخفیف ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔