مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُعَيِّرُ بِالنَّسَبِ أَوْ غَيْرِهِ باب: اس شخص کا بیان جو نسب کے حوالے سے یا کسی اور حوالے سے ( کسی دوسرے شخص کو ) عار دلائے
حدیث نمبر: 13093
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَطَلَّبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کے بندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ، تم انہیں عار نہ دلاؤ ، تم ان کے پوشیدہ معاملات تلاش نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کی طرف متوجہ ہو کر اس شخص کو رسوائی کا شکار کر دے گا ، جبکہ وہ ( شخص ) اپنے گھر میں موجود ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔