مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُعَيِّرُ بِالنَّسَبِ أَوْ غَيْرِهِ باب: اس شخص کا بیان جو نسب کے حوالے سے یا کسی اور حوالے سے ( کسی دوسرے شخص کو ) عار دلائے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَبَبْتُ رَجُلًا فِي الْإِسْلَامِ بِأُمٍّ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَاسْتَعْدَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ شُعْبَةٌ مِنَ الْكُفْرِ " . فَلَمَّا ذَكَرَ الْكُفْرَ اضْطَرَبَتْ رِجْلَايَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسُبُّ مُسْلِمًا بَعْدَهُ أَبَدًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک مسلمان شخص کو اس کی زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ماں کے حوالے سے برا کہا: ، اس شخص نے میرے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے اندر کفر کا ایک شعبہ ہے “ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کا ذکر کیا تو میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اس کے بعد کبھی کسی مسلمان کو برا نہیں کہوں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔