حدیث نمبر: 13054
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ ذَلِكَ ، وَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ، فَبَيْنَا هُمْ قُعُودٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ ، إِذْ تَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَوْسِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْخَزْرَجِ ، وَتَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْأَوْسِ ، فَلَمْ يَزَلْ هَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ ، وَهَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ ، حَتَّى وَثَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَأَخَذُوا أَسْلِحَتَهُمْ وَانْطَلَقُوا لِلْقِتَالِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ الْحَيَّ ، فَجَاءَ مُسْرِعًا قَدْ حَسَرَ عَنْ سَاقَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُمْ نَادَاهُمْ : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ ، فَوَحَشُوا بِأَسْلِحَتِهِمْ فَرَمُوا بِهَا ، وَاعْتَنَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْكُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دی ایک مرتبہ وہ لوگ ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے شعر سنایا جس میں خزرج قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی ، پھر خزرج قبیلے کے ایک شخص نے ایک شعر سنایا جس میں اوس قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی تو وہ لوگ مسلسل اس طرح کے اشعار سنانے لگے ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ، انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے اور لڑائی کے لئے چل پڑے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر وحی نازل ہوئی ، آپ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، آپ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا ، جب آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ کیا تو انہیں پکار کر یہ آیت پڑھی : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو جو اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور جب تم مرو تو تم مسلمان ہی ہونا ۔ “ یہاں تک کہ آپ یہ آیات تلاوت کر کے فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنا اسلحہ پکڑ کے ایک طرف کر دیا اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر رونے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (602)»