مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ باب: لوگوں کے درمیان اصلاح کروانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي أَيُّوبَ بْنِ زَيْدٍ : ¤ " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى عَمَلٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا ، وَتُقَرِّبُ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے ابوایوب ! کیا تمہاری رہنمائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہوتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ جب وہ آپس میں ناچاقی کا شکار ہوں اور تم ان کے درمیان قربت پیدا کرو ، جب وہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد عبداللہ بن حفص ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔