مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَلَامَةِ الصَّدْرِ مِنَ الْغِشِّ وَالْحَسَدِ باب: سینے کا کھوٹ اور حسد سے سلامت ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ سَعْدٌ ، قَالَ ذَلِكَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، كُلُّ ذَلِكَ يَدْخُلُ سَعْدٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ الْعَقِيلِيُّ : لَا يُتَابَعُ حَدِيثُهُ ، قُلْتُ : لَا أَدْرِي أَيُّ حَدِيثٍ عَنَى هَذَا أَوْ غَيْرَهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” تمہارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے ، تین دن تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی اور ہر مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہی آئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قیس رقاشی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کون سی حدیث مراد لی ہے ؟ صرف یہی حدیث ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔