مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَلَامَةِ الصَّدْرِ مِنَ الْغِشِّ وَالْحَسَدِ باب: سینے کا کھوٹ اور حسد سے سلامت ہونا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ " يَطْلُعُ الْآنَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَنْطُفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ ، وَقَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ الشِّمَالِ . ¤ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ ذَلِكَ ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى . ¤ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى . ¤ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ : إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي ، فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ قَالَ أَنَسٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ الثَّلَاثَ اللَّيَالِيَ ، فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ تَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ، ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا . فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلَاثُ اللَّيَالِي ، وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هِجْرَةٌ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ الْمَرَّاتِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ ، فَأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِي بِكَ ، فَلَمْ أَرَكَ عَمِلْتَ كَثِيرَ عَمَلٍ ، فَمَا الَّذِي بَلَّغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ . قَالَ : فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ : مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ ، غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا ، وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذِهِ الَّتِي بَلَّغَتْ بِكَ ، وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَطَلَعَ سَعْدٌ ، بَدَلَ قَوْلِهِ : فَطَلَعَ رَجُلٌ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَالَ سَعْدٌ : مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَبِتْ ضَاغِنًا عَلَى مُسْلِمٍ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ ، إِلَّا أَنَّ سِيَاقَ الْحَدِيثِ لِابْنِ لَهِيعَةَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ، راوی کہتے ہیں : تو ایک انصاری شخص سامنے آیا جس کی داڑھی سے وضو کرنے کی وجہ سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور اس نے اپنے دونوں جوتے بائیں ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھے ، اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند کلمات ارشاد فرمائے ، تو وہی شخص پہلے کی مانند آیا تیسرا دن ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق بات ارشاد فرمائی ، تو وہی شخص پہلے والی حالت میں سامنے آیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی نشست سے ) اٹھ گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اس شخص کے پیچھے گئے اور انہوں نے فرمایا : میرا اپنے والد کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے ، اور میں نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا ، اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم مجھے اپنے ہاں پناہ دے سکتے ہو ، تو تم ایسا کر لو ، اس شخص نے کہا: ٹھیک ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ وہ اس شخص کے ساتھ تین دن رہے ، اور انہوں نے اس شخص کو رات کو نفل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ یہ ہے کہ جب اس کی آنکھ کھلتی تھی اور وہ اپنے بستر پر پہلو بدلتا تھا تو وہ اللہ کا ذکر کر لیتا تھا اور تکبیر کہہ لیتا تھا اور پھر وہ فجر کی نماز کے لئے ہی بیدار ہوتا تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تاہم میں نے اسے ہمیشہ بھلائی کی بات کہتے ہوئے ہی سنا ، جب تین دن گزر گئے تو قریب تھا کہ میں اس شخص کے عمل کو حقیر سمجھتا ، میں نے کہا: اے اللہ کے بندے میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی ناراضگی اور لاتعلقی نہیں ہے ، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ ہم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا ، تو تینوں مرتبہ تم ہی سامنے آئے ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تمہارے ہاں آتا ہوں اور تمہارے عمل کا جائزہ لیتا ہوں اور تمہاری پیروی کروں گا ، تو میں نے تمہیں دیکھا کہ تم زیادہ عمل تو نہیں کرتے ہو ، تو تم کیسے اس مقام تک پہنچے ؟ جو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے : تو اس نے کہا: یہی چیز ہے جو تم نے دیکھ لی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب میں وہاں سے واپس مڑا تو اس نے مجھے بلایا اور بولا: اور کچھ نہیں ہے صرف وہی ہے ، جو تم نے دیکھا ہے ، تاہم یہ ہے کہ میں نے اپنے من میں کسی بھی مسلمان کے لئے کوئی کھوٹ نہیں پایا اور میں کسی بھلائی کے حوالے سے کسی شخص سے حسد نہیں کرتا جو بھلائی اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوئی ہو ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہی وہ چیز ہے ، جس نے تمہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے ، اور یہ وہ چیز ہے ، جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ایک شخص کی جگہ یہ کہا: ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور آخر میں یہ کہا: کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: کہ صرف وہی چیز ہے ، جو تم نے دیکھی ہے ، اے میرے بھتیجے البتہ میں نے کبھی ایسی حالت میں رات بسر نہیں کی کہ میں نے کسی مسلمان کے خلاف غصہ رکھا ہو یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ انہوں نے کہا: تھا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کی حالت اسی طرح ہے ، تاہم اس حدیث کا سیاق ابن لہیعہ کا نقل کردہ ہے ۔