مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَدِ وَالظَّنِّ باب: حسد اور بدگمانی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " ثَلَاثٌ لَازِمَاتُ أُمَّتِي : الطِّيَرَةُ ، وَالْحَسَدُ ، وَسُوءُ الظَّنِّ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يُذْهِبُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّنْ هُنَّ فِيهِ ؟ قَالَ : " إِذَا حَسَدْتَ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَإِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تَتَحَقَّقُ ، وَإِذَا تَطَيَّرْتَ فَامْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں میری امت کو لاحق ہوں گی ، فال نکالنا ، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا ۔ ایک شخص نے عرض کی : ان کو کون سی چیز ختم کر سکتی ہے ؟ یا رسول اللہ ! ان لوگوں سے جن میں یہ چیزیں پائی جاتی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم حسد کرو ، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور جب تم بدگمانی کرو ، تو اس کی تحقیق نہ کرو اور جب تم فال نکالو تو ( بدشگونی کی صورت میں بھی ) اسے کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔