مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ سَبِّهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَمَا يَفْعَلُ بِالدَّابَّةِ إِذَا أُجِيبَ فِي لَعْنِهَا باب: اس چیز کی ممانعت کہ جانوروں کو برا کہا جائے اور جب کسی جانور کے ساتھ ایسا ہو جائے اور اس کے بارے میں لعنت مقبول ہو ( تو کیا کیا جائے )
حدیث نمبر: 13043
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : ¤ نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَآذَتْنَا الْبَرَاغِيثُ ، فَسَبَبْنَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوهَا ، فَنِعْمَتِ الدَّابَّةُ ، فَإِنَّهَا أَيْقَظَتْكُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طُرَيْقٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا تو پسوؤں نے ہمیں اذیت پہنچائی ، تو ہم نے انہیں برا بھلا کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ انہیں برا نہ کہو کیونکہ یہ اچھا جانور ہے ، اس نے تمہیں اللہ کے ذکر کے لئے بیدار کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔