حدیث نمبر: 13042
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ¤ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَدَغَتْ رَجُلًا بُرْغُوثٌ ، فَلَعَنَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَلْعَنْهَا ، فَإِنَّهَا نَبَّهَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِلصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَسُبُّهُ ، فَإِنَّهُ أَيْقَظَ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : ذُكِرَتِ الْبَرَاغِيثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهَا تُوقِظُ لِلصَّلَاةِ " . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَفِي سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ضَعْفٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص کو پسو نے ڈنگ مار دیا ، اس نے اس پر لعنت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ اس نے ایک نبی کو نماز کے لئے بیدار کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” تم اسے برا نہ کہو کیونکہ اس نے ایک نبی کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کیا تھا ۔ “ امام طبرانی نے معجم اوسط میں
یہ روایت نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پسوؤں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ نماز کے لئے بیدار کرتا ہے ۔ “ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ، اور سعید بن بشیر نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2042) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2959)»