مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ سَبِّهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَمَا يَفْعَلُ بِالدَّابَّةِ إِذَا أُجِيبَ فِي لَعْنِهَا باب: اس چیز کی ممانعت کہ جانوروں کو برا کہا جائے اور جب کسی جانور کے ساتھ ایسا ہو جائے اور اس کے بارے میں لعنت مقبول ہو ( تو کیا کیا جائے )
حدیث نمبر: 13035
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُرَدَّ ، وَقَالَ : " لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر لعنت کی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے واپس کر دیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لعنت یافتہ کوئی چیز ہمارے ساتھ نہیں رہے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن مالک نکری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔