مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ باب: مرحومین کو برا کہنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تُؤْذُوا الْحَيَّ بِالْمَيِّتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوَّلِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي قِصَّةِ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ أَبِي لَهَبٍ ، لَمَّا شَكَتِ ابْنَتُهُ إِلَيْهِ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ لَهُ لَمَّا أَسْلَمَتْ : هَذِهِ بِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ . فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا " . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میت کے جالے سے زندہ کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ابولہب کو برا کہنے کی ممانعت کہنے والے واقعہ پر مشتمل حدیث آئے گی کہ جب اس کی بیٹی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شکایت کی تھی کہ اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے یہ کہا: کہ یہ اللہ کے دشمن کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمارے مرحومین کو برا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “