مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يَشْتُمُ إِنْ شَتَمَ أَحَدًا باب: جب کسی کو برا کہا جائے ، تو وہ کیسے برا کہے ؟
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : ¤ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسُبَّ وَقَالَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ سَابًّا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلَا يَفْتَرِ ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْهِ ، وَلَا يَسُبَّ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : إِنَّكَ بَخِيلٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَجَبَانٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَكَذُوبٌ ، أَوْ لِيَقُلْ : إِنَّكَ لَئُومٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَجَاهِيلُ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی کو ( برا کہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر کسی شخص نے لازمی طور پر اپنے ساتھی کو برا کہنا ہی ہو ، تو وہ اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ لگائے اور اس کے ماں باپ کو برا نہ کہے ۔ اس کی قوم کو برا نہ کہے بلکہ یہ ہے کہ اگر وہ جانتا ہے کہ ( یہ خامی اس شخص میں پائی جاتی ہے ) تو پھر وہ یہ کہہ دے کہ تم کنجوس ہو یا یہ کہہ دے کہ تم بزدل ہو یا یہ کہہ دے کہ تم جھوٹے ہو یا یہ کہہ دے کہ تم قابل مذمت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کی سند میں ایک متروک راوی ہے ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ۔