مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَسَبَّبَ فِي سَبِّ وَالِدَيْهِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے ماں باپ کو برا کہنے کے اسباب فراہم کرتا ہے
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا أَنْ يَسْتَطِيلَ الرَّجُلُ فِي شَتْمِ أَخِيهِ ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ ، أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " . قَالُوا : وَكَيْفَ يَشْتُمُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَشْتُمُ أَبَا الرَّجُلِ ، فَيَشْتُمُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَاهِرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ لِينٌ . ¤سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ برا کام یہ ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی کو زیادہ برا بھلا کہے ، اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ان دونوں کو کیسے برا کہہ سکتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دوسرے کے ماں باپ کو برا کہتا ہے ، تو دوسرا اس کے ماں باپ کو کہہ دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف طاہر بن خالد بن نزار کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔