مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اللَّعْنِ وَالسَّبِّ باب: لعنت کرنے اور گالی دینے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي تَمِيمِيَّةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ : ¤ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَوْ قَالَ : أَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَا تَدْعُو ؟ قَالَ : " أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ . مَنْ إِذَا كَانَ لَكَ ضُرٌّ فَدَعْوَتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ ، وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ ، وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ ، فَدَعْوَتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ " . فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا " - أَوْ قَالَ : " أَحَدًا " شَكَّ الْحَكَمُ - قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعِيرًا وَلَا شَاةً ، مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : کیا آپ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ( کا اقرار کرنے ) کی دعوت دیتا ہوں جو ایسا ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف لاحق ہو ، اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دے گا ، اور جب تمہیں قحط سالی لاحق ہو اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہارے لئے چیزیں اگا دے گا ، اور جب تم کسی ویرانے میں موجود ہو ، اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری سواری واپس کر دے گا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا ، پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی یہ تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کسی چیز کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی فرد کو برا ہرگز نہ کہنا ، یہ شک حکم نامی راوی کو ہے وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلقین کی ہے ۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی اونٹ اور بکری کو بھی برا نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن فضیل ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔