مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ باب: دو آدمی ، تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت نہ کریں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا يَحِلُّ أَنْ تَنْكِحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبَهُ حَتَّى يُدْرِيَهُ ، وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ ، يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی عورت کے ساتھ دوسری عورت ( یعنی پہلی بیوی ) کی طلاق کی شرط پر نکاح کیا جائے اور کسی شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے ، جب تک دوسرا شخص اسے چھوڑ نہیں دیتا ، اور تین افراد کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر موجود ہوں اور ان میں سے دو افراد اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔